پوری اسلامی دنیا کی طرح بارسلونا میں بھی ہر دفعہ یہ تنازعہ شدید سے شدید تر ہوتا جا رہا ہے کہ فلاں عید کس تاریخ کوہے یا فلاں اسلامی تہوار کس تاریخ کو ہو گا ۔ کچھ مساجد تو براہِ راست سعودی عرب کے ساتھ کرنے کا اعلان کر دیتی ہیں اور کچھ ایسی بھی ہیں جو مقامی سائنسی نظام کے ذریعے اس مسئلے کا حل چاہتی ہیں ۔ بعض دفعہ سائنسی طریقہ کار سے کرنے والوں پر تنقید کی جاتی ہے کہ یہ سعودی عرب کے ساتھ نہیں چلتے تو بعض دفعہ کچھ لوگ سعودی طریقہ سے چلنے والوں پر تنقید کرتے ہیں کہ ان کی وجہ سے ہمارے رمضان کا آغاز اور عیدین غلط ہوتی ہیں لہٰذا ہمارا ثواب ضائع ہوتا ہے ۔

منہاج القرآن بارسلونا کی طرف سے کچھ عرصہ سے ہر موقع پر مختلف تنظیمات کا اجلاس بلایا جاتا ہے جس میں بارسلونا شہر کی مختلف مساجد کے نمائندگان اور کیمونٹی کے سرکردہ افراد شرکت کرتے ہیں، ان اجلاس میں ان مسائل کے حل کے لیے زیادہ سے زیادہ اتفاقِ رائے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ اتحادِ امت کا دیرینہ خواب پورا ہو سکے، اور بارسلونا میں ایک ہی دن سارے مسلمان رمضان کا آغاز کریں اور ایک ہی دن عید کریں ۔

اب جبکہ عید الاضحی قریب آگئی ہے تو ایک مرتبہ پھر اسی قسم کا اختلاف پیدا ہو گیا ہے، مسجد طارق بن زیاد اور عربی کیمونٹی کی کچھ تنظیموں کی طرف عید الاضحی 19 دسمبر کو منانے کا اعلان کر دیا گیا ہے جبکہ مقامی محکمہ فلکیات کی اطلاعات کے مطابق یہ تاریخ درست نہیں ہے کیونکہ 9 دسمبر کو چاند زمین کے کسی بھی حصہ نظر نہیں آسکتا تھا ۔ اس اختلاف کے حل کے لیے منہاج القرآن انٹرنیشنل سپین بارسلونا کی طرف بدھ 12 دسمبر کو شام 5:30 پر منہاج اسلامک سنٹر بارسلونا میں ایک اجلاس بلایا گیا ہے جس میں منہاج القرآن بارسلونا کے علاوہ اسلامک کونسل آف کتالونیا، مسجد طارق بن زیاد، مسجد مدنی، مسجد فیضانِ مدینہ( دعوتِ اسلامی )، مسجد غوثیہ محمدیہ (بسوس)اور اسلامک سنٹر بارسلونا کے نمائندگان شرکت کریں گے ۔

یاد رہے کہ گزشتہ رمضان المبارک کے بعد عید الفطر کے موقع پر بھی عید منانے کا فیصلہ مقامی سائنسی رپورٹوں کے بر عکس اور سعودی عربیہ کے مطابق کیا گیا تھا کیونکہ بیشتر مساجد کی طرف سے پہلے ہی اعلان کیا جا چکا تھا ۔